ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / تمام ریاستیں دو دنوں تک ’ریپڈ ٹیسٹ کِٹ‘ استعمال نہ کریں: طبی تحقیق کونسل

تمام ریاستیں دو دنوں تک ’ریپڈ ٹیسٹ کِٹ‘ استعمال نہ کریں: طبی تحقیق کونسل

Tue, 21 Apr 2020 22:39:51    S.O. News Service

نئی دہلی،21؍اپریل(ایس او نیوز؍یو این آئی) مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ جن ریاستوں میں ریپڈ ٹیسٹ کٹس بھیجی گئی تھیں وہاں کے مریضوں کی رپورٹوں رپورٹوں میں تضاد ظاہر ہوا ہے لہذا اگلے دو دنوں تک تمام ریاستوں کو ان کٹس کا استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

ہندوستان طبی تحقیق کونسل (آئی سی ایم آر) کے سائنسداں ڈاکٹر رمن آر گنگاكھیڑكر نے منگل کو یہاں نامہ نگاروں كو بتایا کہ جن ریاستوں میں ریپڈ کٹ تقسیم کی گئیں تھی وہاں سے تضاد کی کچھ رپورٹیں مل رہی تھی اور کم نتائج کی رپورٹیں سامنے آ رہی تھیں۔ اس بارے میں تین ریاستی حکومتوں سے بات کی گئی اور پتہ لگا ہے کہ ان میں ارٹی پی سی آر نتیجوں میں چھ سے 71 فیصد کے فرق آ رہے تھے جس کی جانچ کی جائی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ اس بیماری کو ملک میں داخل ہوئے ابھی ساڑھے تین ماہ ہی ہوئے ہیں اور ایسے میں ابتدائی اسٹیج کے ٹیسٹ فرق دکھا رہے ہیں۔ دہلی میں بھی آرٹی پی سی آر کے نتیجہ 71 فیصد پازیٹیو آرہے ہیں لیکن ان میں کافی فرق ہے۔ اسے دیکھتے ہوئے آئی سی ایم آر نے اپنے سبھی آٹھ اداروں کے عملے کو فیلڈ میں جاکر ان کٹ کی کھیپ سے ہی ٹیسٹ کرنے کا کام سونپا ہے اور اسی کی وجہ سے سبھی ریاستوں کو اگلے دو دنوں تک ان کٹ کا استعمال نہ کرنے کو کہا ہے۔ اگر کوئی کمی پائی جاتی ہے تو ان کٹ کی کھیپ کو بدلا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ کورونا معاملات کے سامنے آنے کا ڈبلگ وقت اب بڑھتا جا رہا ہے اور سماجی فاصلے اور لاک ڈاؤن کے قوانین پر عمل کرکے اسے کافی حد تک کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

گنگاكھیڑكر نے بتایا کہ اب تک جتنے بھی ٹیسٹ ہوئے ہیں، ان کے نتائج سےے ظاہر ہوتا ہے کہ کورونا وائرس کی علامات والے مریضوں کا فیصد 31 فیصد ہے اور بغیر علامات والے مریضوں کا فیصد 69 فیصد ہے اور یہ بھی واضح ہے کہ جتنے مریضوں میں کم علامات نظر آئیں گی، اتنا ہی کم وہ جانچ کے لئے آگے آئیں گے۔

ابھی تک صرف ایک ہی تحقیق ہوئی ہے جو بتاتی ہے کہ کورونا وائرس کے 80 فیصد مریضوں میں علامات بہت ہی کم یا ہلکی ہیں اور 20 فیصد مریضوں میں شدید علامات ہوتی ہیں جنہیں اسپتال میں جانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ آخر اس سلسلے میں کسی طرح کے خوف کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔

انہوں نے بتایا کہ آج تک ملک میں کل چار لاکھ 49 ہزار 810 ٹیسٹ ہوئے ہیں اور ان میں سے کل 35852 ٹیسٹ کئے گئے تھے۔ آئی سی ایم آر کی 201 لیبارٹریوں میں 29766 ٹیسٹ اورپرائیویٹ شعبے کی 80 لیبارٹریوں میں 6076 ٹیسٹ ہوئے ہیں۔


Share: